المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن حفص بن أبي عقيل وقد اختلف في اسمه، عن يعلى بن مرة باب: عبداللہ بن حفص بن ابی عقیل (ان کے نام میں اختلاف ہے) کی سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ جَدِّهِ يَعْلَى: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الصَّلَاةِ فَانْطَلَقْتُ إِلَى أُخْتٍ لِي فَلَطَّخْتُ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنَ الْخَلُوقِ فَلَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ وُجُوهَهُمْ وَتَرَكَنِي فَقِيلَ: إِنَّمَا تَرَكَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ الَّذِي بِوَجْهِكَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى بِئْرٍ مِنْ آبَارِ الْمَدِينَةِ فَوَقَعْتُ فِيهَا، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ الْأُخْرَى أَتَيْتُهُ فَمَسَحَ وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ: «عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْغُلَامُ»ابن یعلی بن مرہ رحمہ اللہ اپنے دادا سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں تھے، تو میں اپنی ایک بہن کے پاس گیا اور اپنے چہرے پر خلوق (خوشبو) میں سے کچھ لگا لیا۔ جب نبی کریم ﷺ کا گزر ہوا تو آپ ﷺ نے (بچوں کے) چہروں پر ہاتھ پھیرا اور مجھے چھوڑ دیا۔ تو کسی نے کہا: نبی کریم ﷺ نے تمہیں صرف اس لیے چھوڑا کیونکہ تمہارے چہرے پر خلوق (خوشبو) لگی ہوئی تھی۔ چنانچہ میں مدینہ کے کنوؤں میں سے ایک کنویں کی طرف گیا اور اس میں جا گرا۔ پھر جب اگلی نماز کا وقت ہوا تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا، پھر فرمایا: ”یہ لڑکا اپنے دین کی بھلائی کی طرف لوٹ آیا۔“