المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن حفص بن أبي عقيل وقد اختلف في اسمه، عن يعلى بن مرة باب: عبداللہ بن حفص بن ابی عقیل (ان کے نام میں اختلاف ہے) کی سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18888
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ورْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَفْصِ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ، أَنَا يَعْلَى بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ: «يَا يَعْلَى، هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَاذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ عَنْكَ، ثُمَّ اغْسِلْهُ عَنْكَ، ثُمَّ لَا تَعُدْ» قَالَ: فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ حَتَّى السَّاعَةِترجمہ
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھا جبکہ میں خوشبو لگائے ہوئے تھا، تو فرمایا: ”اے یعلی! کیا تمہاری کوئی بیوی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے دھو ڈالو، پھر دھو ڈالو، پھر دھو ڈالو، اور آئندہ ایسا نہ کرنا۔“ کہتے ہیں: میں گیا اور دھویا، پھر دھویا، پھر دھویا، اور آج تک دوبارہ ایسا نہیں کیا۔