حدیث نمبر: 18847
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ المَلْطِيُّ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبِي قَالَا: ثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُم خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَعَ جِنَازَةٍ حَتَّى إِذَا وَرَدُوا الْبَقِيعَ، قَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: هَذِه فُلَانَةُ مَوْلَاةُ بَنِي فُلَانٍ فَعَرَفَهَا، قَالَ: «هَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهَا» قَالُوا: دَفَنَّاهَا ظَهْرًا، وَكُنْتَ قَائِلًا نَائِمًا فَلَمْ نُحِبَّ أَنْ نُؤْذِيَكَ، فَقَامَ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ: «لَا يَمُوتُ مِنْكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي، فَإِنَّ صَلَاتِي لَهُ رَحْمَةٌ»
ترجمہ

سیدنا یزید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان کے بھتیجے خارجہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب وہ بقیع پہنچے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی باندی فلانہ ہے۔ آپ ﷺ نے اسے پہچان لیا، فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟“ لوگوں نے کہا: ہم نے اسے دوپہر کو دفن کیا تھا جبکہ آپ قیلولہ فرما رہے تھے اور سو رہے تھے تو ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔ آپ ﷺ کھڑے ہوئے، لوگوں کو اپنے پیچھے صف بستہ کیا اور اس پر چار تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: ”جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں، تم میں سے کوئی فوت ہو تو مجھے ضرور اطلاع دیا کرو، کیونکہ میری اس پر نماز اس کے لیے رحمت ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18847
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 239، حدیث 627