المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن الأخنس السلمي باب: سیدنا یزید بن اخنس سلمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18846
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ، وَكَانَتْ، لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَنَافُسَ بَيْنَكُمْ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ: رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللهُ قُرْآنًا فَهُو يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَو يَتْبَعُ مَا فِيهِ، فَيَقُولُ رَجُلٌ: لَو أَنَّ اللهَ أَعْطَانِي مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَقُومُ بِهِ كَمَا يَقُومُ بِهِ وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللهُ مَالًا فَهُو يُنْفِقُ وَيَتَصَدَّقُ يَقُولُ رَجُلٌ مِثْلَ ذَلِكَ "ترجمہ
سیدنا یزید بن اخنس سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ صحابی تھے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے درمیان رشک صرف دو آدمیوں پر ہونا چاہیے: ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن عطا کیا اور وہ رات دن اس پر قائم رہتا ہے یا اس پر عمل کرتا ہے، تو کوئی آدمی رشک کرتے ہوئے کہے: کاش اللہ مجھے بھی وہی عطا کرتا جو فلاں کو عطا کیا ہے تاکہ میں بھی اس پر ویسے ہی قائم رہتا جیسے وہ رہتا ہے۔ اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا اور وہ اسے خرچ اور صدقہ کرتا ہے، تو کوئی آدمی اسی طرح کی بات کہے۔“