المعجم الكبير للطبراني
باب اللام ألف— حرف لام الف
عروة بن رويم اللخمي، عن أبي ثعلبة باب: عروہ بن رویم لخمی کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ زِيَادٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ سِنَانٍ الشَّامِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَدَأَ بِبَيْتِ فَاطِمَةَ ثُمَّ أَتَى بُيُوتَ نِسَائِهِ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى خَدِّهٍ وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَد اِخْلَوْلَقَت ثِيَابُكَ فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ، بَعَثَ اللهُ أَبَاكِ بِأَمْرْ لَا يَبْقَى بَيْتٌ مَدَرٌ وَلَا وَبَرٌ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ بِأَبِيكِ عِزًّا حَتَّى يَبْلُغَ حَيْثُ يَبْلُغُ اللَّيْلُ»سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے، پھر اپنی ازواج کے گھروں میں جاتے۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ ان کے پاس گئے تو انہوں نے اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے رخسار پر رکھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کے کپڑے پرانے ہو چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! اللہ نے تیرے والد کو ایسے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ کوئی مٹی کا گھر یا بالوں کا خیمہ نہیں بچے گا مگر اللہ اسے تیرے والد کی وجہ سے عزت میں داخل کر دے گا، یہاں تک کہ یہ دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات پہنچتی ہے۔“