حدیث نمبر: 18815
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَدْنِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثَنَا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُثَنِّي بِفَاطِمَةَ ثُمَّ يَأْتِي أَزْوَاجَهُ فَقَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَى فَاطِمَةَ فَتَلَقَّتْهُ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَجَعَلَتْ تَلْثِمُ فَاهُ وَعَيْنَيْهِ وَتَبْكِي فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكَ؟» فَقَالَتْ: أَرَاكَ شَعِثًا نَصِبًا قَدْ اِخْلَوْلَقَتْ ثِيَابُكَ، فَقَالَ: «لَهَا لَا تَبْكِي، فَإِنَّ اللهَ قَد بَعَثَ أَبَاكِ بِأَمْرٍ لَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ بَيْتٌ وَلَا مَدَرٌ وَلَا حَجَرٌ وَلَا وَبَرٌ وَلَا شَعَرٌ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ بِهِ عِزًّا أَو ذُلًّا حَتَّى يَبْلُغَ حَيْثُ بَلَغَ اللَّيْلُ»
ترجمہ

سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ مسجد میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے، پھر اپنی ازواج کے پاس تشریف لے جاتے۔ ایک سفر سے واپسی پر آپ ﷺ نے مسجد میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، وہ گھر کے دروازے پر آپ ﷺ کے استقبال کے لیے آئیں اور آپ ﷺ کے منہ اور آنکھوں کو چومنے لگیں اور رونے لگیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کیا رلاتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں آپ کو پراگندہ حال اور تھکا ہوا دیکھ رہی ہوں، آپ کے کپڑے بھی پرانے ہو چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! مت رو، اللہ نے تیرے والد کو ایسے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ روئے زمین پر کوئی گھر، مٹی کا مکان، پتھر، اونٹ کے بال یا بکری کے بال کا خیمہ نہیں بچے گا مگر اللہ اس میں عزت یا ذلت داخل کر دے گا، یہاں تک کہ یہ دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات پہنچتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام ألف / حدیث: 18815
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 225، حدیث 595