المعجم الكبير للطبراني
باب الهاء— حرف ہا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من اسمه هوذة هوذة الأنصاري هوذة غير منسوب من اسمه هزال هزال باب: جن کا نام ہوذہ ہے — سیدنا ہوذہ انصاری رضی اللہ عنہ — سیدنا ہوذہ رضی اللہ عنہ، جن کا نسب معلوم نہیں — جن کا نام ہزال ہے: سیدنا ہزال رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ: قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ: اذْهَبْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ بِحَدِيثِكَ فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، فَجَعَلَ يُرَدِّدُ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: «أَبِهِ جُنُونٌ» ، قَالُوا: لَا، قَالَ: «أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟» ، قَالُوا: بَلْ ثَيِّبٌ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، قَالَ: «وَيْحَكَ يَا هَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَهُ بِرِدَائِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ»سیدنا ہزال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی کریم ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ ﷺ کو اپنا معاملہ بتاؤ۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو خبر دی، تو نبی کریم ﷺ نے کئی بار ان سے اعراض فرمایا، لیکن وہ بار بار نبی کریم ﷺ کے سامنے یہ بات دہراتے رہے۔ آخر نبی کریم ﷺ نے ان کی قوم کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا: ”کیا اسے جنون ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا وہ کنوارہ ہے یا شادی شدہ؟“ انہوں نے کہا: بلکہ شادی شدہ ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور انہیں رجم کر دیا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس ہے اے ہزال! اگر تُو اسے اپنی چادر سے چھپا لیتا تو یہ تیرے لیے بہتر ہوتا۔“