المعجم الكبير للطبراني
باب الهاء— حرف ہا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من اسمه هوذة هوذة الأنصاري هوذة غير منسوب من اسمه هزال هزال باب: جن کا نام ہوذہ ہے — سیدنا ہوذہ انصاری رضی اللہ عنہ — سیدنا ہوذہ رضی اللہ عنہ، جن کا نسب معلوم نہیں — جن کا نام ہزال ہے: سیدنا ہزال رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ، عَنْ جَدِّهِ هَزَّالٍ، قَالَ: كَانَتْ جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِهَا فَأَتَاهَا رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ فَأَخْبَرَتْ جَدِّي هَزَّالًا فَجَعَلَ جَدِّي هَزَّالٌ يُسْقِطُهُ لِيَعْتَرِفَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ: وَيْحَكَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ أَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ فَأَخْبَرَهُ خَبَرَكَ فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ زِنًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، قَالَ: فَتَعَرَّضَ لَهُ رَجُلٌ بَلْحَا بَعِيرٍ فَضَرَبَ بِهِ سَاقَهُ فَصَرَعَهُ وَرَجَمُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ، وَهُوَ يَسْتَغِيثُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَوْ كَانَ أَتَانِي لَمْ يَرِدْ عَلَى ذَلِكَ» ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي أَسْقَطَهُ: «وَيْحَكَ يَا هَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ» ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى رُكْبَةِ هَزَّالٍسیدنا ہزال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتی تھی، ہم میں سے ایک آدمی جسے ماعز بن مالک کہا جاتا تھا اس کے پاس آیا اور اس سے بدکاری کر بیٹھا۔ وہ لونڈی آئی اور اس نے میرے دادا ہزال کو خبر دی، تو میرے دادا ہزال انہیں ابھارنے لگے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس جا کر اعتراف کر لیں، اور کہتے: تجھ پر افسوس! اگر تُو نے ایسا نہ کیا تو اللہ اپنے رسول پر (وحی) نازل کر دے گا اور وہ انہیں تیری خبر دے دے گا۔ وہ برابر یہی کہتے رہے یہاں تک کہ ماعز بن مالک رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ زنا (مجھ سے) ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نے تین یا چار مرتبہ ان سے منہ پھیر لیا، پھر نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: ایک آدمی اونٹ کے جبڑے کی ہڈی لے کر ان کے سامنے آیا اور اس سے ان کی پنڈلی پر مارا جس سے وہ گر پڑے، پھر لوگوں نے انہیں رجم کیا یہاں تک کہ مار ڈالا، جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ سے مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو! اگر وہ میرے پاس آ جاتا تو اس کے ساتھ ایسا نہ ہوتا۔“ پھر آپ ﷺ نے اس شخص سے، جس نے انہیں (اعتراف پر) ابھارا تھا، فرمایا: ”تجھ پر افسوس ہے اے ہزال! اگر تُو اسے اپنے کپڑے سے چھپا لیتا تو یہ تیرے لیے بہتر ہوتا۔“ اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ ہزال کے گھٹنے پر مارا۔