حدیث نمبر: 18751
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ، عَنْ جَدِّهِ هَزَّالٍ، قَالَ: كَانَتْ جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِهَا فَأَتَاهَا رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ فَأَخْبَرَتْ جَدِّي هَزَّالًا فَجَعَلَ جَدِّي هَزَّالٌ يُسْقِطُهُ لِيَعْتَرِفَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ: وَيْحَكَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ أَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ فَأَخْبَرَهُ خَبَرَكَ فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ زِنًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، قَالَ: فَتَعَرَّضَ لَهُ رَجُلٌ بَلْحَا بَعِيرٍ فَضَرَبَ بِهِ سَاقَهُ فَصَرَعَهُ وَرَجَمُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ، وَهُوَ يَسْتَغِيثُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَوْ كَانَ أَتَانِي لَمْ يَرِدْ عَلَى ذَلِكَ» ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي أَسْقَطَهُ: «وَيْحَكَ يَا هَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ» ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى رُكْبَةِ هَزَّالٍ
ترجمہ

سیدنا ہزال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اونٹ کی جبڑے کی ہڈی سے اس کے سامنے آ کر اس کی پنڈلی پر مارا جس سے وہ گر پڑا، پھر لوگوں نے اسے رجم کر کے مار ڈالا، جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ سے مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو! اگر وہ میرے پاس آ جاتا تو اس کے ساتھ ایسا نہ ہوتا۔“ پھر آپ ﷺ نے اس شخص سے، جس نے اسے رسوا کیا تھا، فرمایا: ”تجھ پر افسوس ہے اے ہزال! اگر تُو اسے اپنے کپڑے سے چھپا لیتا تو یہ تیرے لیے بہتر ہوتا۔“ اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ ہزال کے گھٹنے پر مارا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18751
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 202، حدیث 531