المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند وحشي باب: سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 18585
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زَيْدٍ الْخَطَّابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، ثنا وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُوشِكُ الْعِلْمُ أَنْ يُخْتَلَسَ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا تَقْدُرُونَ مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ» فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ: وَكَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا الْعِلْمُ وَقَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ وأَقْرَأْنَاهُ أَبْنَاءَنَا؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ لَبِيدٍ، هَذِهِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ بِأَيْدِي الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مَا يَرْفَعُونَ بِهَا رَأْسًا»ترجمہ
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب علم لوگوں سے چھین لیا جائے گا یہاں تک کہ تم اس میں سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکو گے۔“ زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: علم ہم سے کیسے چھینا جائے گا جبکہ ہم نے قرآن پڑھا ہے اور اپنی اولاد کو بھی پڑھایا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے، اے ابن لبید! دیکھو، تورات اور انجیل تو یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں ہیں لیکن وہ ان سے کوئی سر نہیں اٹھا رہے۔“