المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند وحشي باب: سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 18583
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَوْبَرُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ سَمِعَ خَشْخَشَةً فَقَالَ: " يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذِهِ الْخَشْخَشَةُ؟ قَالَ: هَذَا بِلَالٌ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَيْتَ أُمَّ بِلَالٍ وَلَدَتْنِي وَأَبُو بِلَالٍ، وَأَنَا مِثْلُ بِلَالٍ "ترجمہ
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کی رات جنت میں لے جایا گیا تو آپ ﷺ نے ایک کھڑکھڑاہٹ سنی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے جبریل! یہ کیسی آواز ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ بلال کے جوتوں کی آہٹ ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: کاش! بلال کی ماں اور بلال کے باپ نے مجھے جنم دیا ہوتا، اور میں بھی بلال جیسا ہوتا۔