المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند وحشي باب: سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 18582
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَوْبَرُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ:: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ صَفِيَّةً قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْجَارِيَةِ؟» قَالُوا: يَقُولُونَ: إِنَّكَ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا وَأَحَقُّهُمْ. قَالَ: «فَإِنِّي قَدْ أَعْتَقْتُهَا وَاسْتَنْكَحْتُهَا وَجَعَلْتُ عِتْقَهَا مَهْرَهَا» ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْوَلِيمَةُ قَالَ: «الْوَلِيمَةُ حَقٌّ، وَالثَّانِيَةُ مَعْرُوفٌ، وَالثَّالِثَةُ فَخْرٌ وحَرَجٌ»ترجمہ
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ نے نبی کریم ﷺ کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو مالِ غنیمت میں عطا فرمایا تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اس باندی کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ ہی اس کے سب سے زیادہ حق دار اور اولیٰ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اسے آزاد کر دیا اور اس سے نکاح کر لیا اور اس کی آزادی ہی کو اس کا مہر بنا دیا۔“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ولیمہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دعوت لازم ہے، دوسری اچھی بات ہے، اور تیسری فخر اور تنگی کا باعث ہے۔“