المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معمر بن عبد الله بن نضلة العدوي القرشي وهو معمر بن عبد الله بن نضلة بن حرثان بن عوف بن عبيد بن عويج بن عدي بن كعب , وأمه أشعرية , وكان من مهاجرة الحبشة ممن قدم على النبي صلى الله عليه وسلم في السفينتين باب: سیدنا معمر بن عبداللہ بن نضلہ عدوی قرشی رضی اللہ عنہ (آپ معمر بن عبداللہ بن نضلہ بن حرثان بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب ہیں، آپ کی والدہ اشعریہ قبیلے سے تھیں، حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں اور دونوں کشتیوں میں نبی کریم ﷺ کے پاس آنے والوں میں سے تھے)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، يَقُولُ: كُنْتُ أَرْحَلُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْمَرُ» قَالَ: «وَجَدْتُ اللَّيْلَةَ فِي أَنْسَاعِي اضْطِرَابًا» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ شَدَدْتُهَا كَمَا كُنْتُ أَشُدُّهَا , وَلَكِنْ أَرَادَ مَنْ يَنْفِسُ عَلَيَّ ذَلِكَ أَنْ يَسْتَبْدِلَ بِي , فَقَالَ: «أَمَا إِنِّي غَيْرُ فَاعِلٍ ذَلِكَ» , فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِن حَجَّهِ أَمَرَنِي فَأَخَذْتُ الْمُوسَى فَصَقَلْتُهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْمَرُ , أَمْكَنَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِن شَحْمَةِ أُذُنِهِ , وَفِي يَدِكَ الْمُوسَى» , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنِّي أَرَى ذَلِك مَنًَّا عَلَيَّ وَفَضْلًا , قَالَ: «أَجَلْ» قَالَ: فَزِدْ ذَلِكَ "سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی سواری کا سامان باندھا کرتا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے معمر!“ فرمایا: ”آج رات مجھے اپنی تنگوں میں کچھ ڈھیلا پن محسوس ہوا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے انہیں اسی طرح کَسا تھا جس طرح ہمیشہ کستا ہوں، لیکن جسے میری اس قربت پر رشک آتا ہے وہ چاہتا ہے کہ مجھے بدل دیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایسا نہیں کروں گا۔“ جب رسول اللہ ﷺ اپنے حج سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا، چنانچہ میں نے استرا لے کر اسے تیز کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے معمر! رسول اللہ ﷺ نے تمہیں اپنے کان کی لو تک رسائی دی ہے، جبکہ استرا تمہارے ہاتھ میں ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اسے اپنے اوپر آپ ﷺ کا احسان اور فضل سمجھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، بےشک۔“ (راوی کہتے ہیں:) تو اس (شکر) میں اضافہ کرو۔