المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معمر بن عبد الله بن نضلة العدوي القرشي وهو معمر بن عبد الله بن نضلة بن حرثان بن عوف بن عبيد بن عويج بن عدي بن كعب , وأمه أشعرية , وكان من مهاجرة الحبشة ممن قدم على النبي صلى الله عليه وسلم في السفينتين باب: سیدنا معمر بن عبداللہ بن نضلہ عدوی قرشی رضی اللہ عنہ (آپ معمر بن عبداللہ بن نضلہ بن حرثان بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب ہیں، آپ کی والدہ اشعریہ قبیلے سے تھیں، حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں اور دونوں کشتیوں میں نبی کریم ﷺ کے پاس آنے والوں میں سے تھے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ بِصَاعٍ فَقَالَ: بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا , فَذَهَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ , فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرٌ خَبَّرَهُ بِذَلِكَ , فَقَالَ مَعْمَرٌ: لِمَ فَعَلْتَ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ لَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلاً بِمِثْلٍ , فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الطَّعَامُ مِثْلًا بِمِثْلٍ» وَكَانَ طَعَامَنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرُ , فَقِيلَ: إِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ , فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ الرِّبَابسر بن سعید رحمہ اللہ سیدنا معمر بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلام کو ایک صاع اناج دے کر بھیجا اور کہا: اسے بیچ کر اس کے بدلے جَو خرید لاؤ۔ تو غلام گیا اور ایک صاع اور کچھ زیادہ لے آیا۔ جب معمر آئے تو انہیں اس کی خبر دی گئی، تو معمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟ جاؤ اور اسے واپس کرو، برابر برابر کے سوا کچھ مت لو، کیونکہ میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کرتا تھا: 'کھانا برابر برابر کے بدلے میں۔'“ اور اس دن ہمارا کھانا جَو تھا، تو کہا گیا: یہ اس جیسا نہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے خدشہ ہے کہ یہ سود سے مشابہت اختیار کر لے۔“