حدیث نمبر: 18219
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ بِصَاعٍ فَقَالَ: بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا , فَذَهَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ , فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرٌ خَبَّرَهُ بِذَلِكَ , فَقَالَ مَعْمَرٌ: لِمَ فَعَلْتَ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ لَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلاً بِمِثْلٍ , فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الطَّعَامُ مِثْلًا بِمِثْلٍ» وَكَانَ طَعَامَنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرُ , فَقِيلَ: إِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ , فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ الرِّبَا
ترجمہ

…اس دن (تبادلے میں) کچھ صاع کم رہ گیا تھا، جب معمر آئے تو انہیں اس کی خبر دی گئی، تو معمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟ جاؤ اور اسے واپس کرو، برابر برابر کے سوا کچھ مت لو، کیونکہ میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کرتا تھا: ’کھانا برابر برابر (کے بدلے) میں۔‘“ اور اس دن ہمارا کھانا جو تھا، تو کہا گیا: یہ اس جیسا نہیں (یعنی معیار میں فرق ہے)، تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے خدشہ ہے کہ یہ سود سے مشابہت اختیار کر لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 18219
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 447، حدیث 1095