المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب بن هشام بن عبد مناف " ويقال: عبد المطلب، والصواب: المطلب، ومات بدمشق، وكان يسكن بها، فتوفي سنة إحدى وستين " باب: سیدنا مطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف رضی اللہ عنہ (یہ بھی کہا گیا: عبدالمطلب، صحیح نام مطلب ہے؛ دمشق میں مقیم رہے اور وہیں اکسٹھ ہجری میں وفات پائی)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: اجْتَمَعَ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالُوا: أَلَا تَسْأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلْ فِيكُمْ مَا جَعَلَ فِي بَنِي فُلَانٍ، يَجْعَلْ فِيكُمُ السِّعَايَةَ؟ فَلَقُوا عَلِيًّا فَكَلَّمُوهُ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَى ذَلِكَ لَكُمْ وَرَسُولُهُ أَنْ يَجْعَلَ لَكُمْ أَوْسَاخَ أَيْدِي النَّاسِ - أَوْ قَالَ: غُسَالَةَ أَيْدِي النَّاسِ - قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ لِأَبِيهِ: أَرْسِلْنِي، فَأَرْسَلَ الْعَبَّاسُ ابْنَهُ الْفَضْلَ، فَأَتَيْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْنَا، فَخَصَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تُصَرِّرَانِ هَهُنَا؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَعَثَنَا قَوْمُكَ وَبَنُو عَمِّكَ لِتَجْعَلَ فِيهِمْ مَا جَعَلْتَ فِي النَّاسِ مِنَ السِّعَايَةِ، فَقَالَ: «إِنَّ» اللهَ أَبَى ذَلِكَ لَكُمْ وَرَسُولُهُ أَنْ تَأْكُلُوا أَوْسَاخَ - أَوْ قَالَ: غُسَالَةَ - أَيْدِي النَّاسِ "سیدنا مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے فضل کو بھیجا، ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور اندر داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے ہم میں سے ہر ایک سے تنہا ملاقات کی، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں یہاں کیوں سرگوشیاں کر رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی قوم اور آپ کے چچا زاد بھائیوں نے ہمیں بھیجا ہے کہ آپ ہمیں بھی اس زکوٰۃ کی وصولی کے کام پر مقرر فرما دیں جیسے آپ نے دوسرے لوگوں کو مقرر فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک اللہ اور اس کے رسول نے تمہارے لیے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ تم لوگوں کے ہاتھوں کا میل“ - یا فرمایا: ”دھلاوا - کھاؤ۔“