حدیث نمبر: 17810
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا نَسْمَعُ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ قُرَيْشٍ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ مِنْهُمْ: إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ مِثْلُ نَخْلَةٍ أُنْبِتَتْ فِي كِبَاءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَنَا» ؟ قَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ: " أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - قَالُوا: فَمَا سَمِعْنَاهُ انْتَمَى قَبْلَهَا قَطُّ - ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ» اللهَ خَلَقَ خَلْقَهُ ثُمَّ فَرَقَهُمْ فِرْقَتَيْنِ، فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ الْفِرْقَتَيْنِ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، فَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا، وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا "
ترجمہ

سیدنا مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی کریم ﷺ سے عرض کیا گیا: ہم قریش کے کچھ لوگوں سے یہ بات سنتے ہیں کہ ان میں سے کہنے والا کہتا ہے: محمد ﷺ کی مثال تو بس اس کھجور کے درخت جیسی ہے جو کوڑے کے ڈھیر میں اگا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! میں کون ہوں؟“ لوگوں نے عرض کیا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں“ - لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو اس سے پہلے کبھی اس طرح نسب بیان کرتے نہیں سنا تھا - پھر فرمایا: ”بےشک اللہ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا، پھر انہیں دو گروہوں میں تقسیم کیا تو مجھے بہتر گروہ میں رکھا، پھر انہیں قبیلوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان کے بہترین قبیلے میں رکھا، پس میں تم سب میں گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور ذات کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17810
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 286، حدیث 676