حدیث نمبر: 17809
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَتَى نَاسٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْ قَوْمٍ جَفَاءً، يَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ: إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ كَمِثْلِ نَخْلَةٍ نَبَتَتْ فِي كِبَاءٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَنَا؟» قَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - فَمَا سَمِعْنَاهُ يَنْتَمِي قَبْلَهَا - إِنَّ اللهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ خَلْقِهِ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ الْفِرْقَتَيْنِ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ، فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ بَيْتٍ، فَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا، وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا»
ترجمہ

سیدنا مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ہم کچھ لوگوں سے جفا کی بات سنتے ہیں، ان میں سے کہنے والا کہتا ہے: محمد ﷺ کی مثال تو صرف اس کھجور کے درخت جیسی ہے جو کوڑے کے ڈھیر میں اگ آیا ہو۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! میں کون ہوں؟“ لوگوں نے عرض کیا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں“ - راوی کہتے ہیں: ہم نے آپ ﷺ کو اس سے پہلے کبھی اس طرح نسب بیان کرتے نہیں سنا تھا - ”بےشک اللہ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے اس کی بہترین مخلوق میں رکھا، پھر انہیں دو گروہوں میں تقسیم کیا تو مجھے بہتر گروہ میں رکھا، پھر انہیں قبیلوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان کے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر انہیں گھرانوں میں تقسیم کیا تو مجھے بہترین گھرانے میں رکھا، پس میں تم سب میں گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور ذات کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17809
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 286، حدیث 675