حدیث نمبر: 17808
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقَالَ: «مَا أَتَى بِكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ؟ قَالَ: «مَا لَكَ وَلَهُمْ حَتَّى أَتَى بِكَ؟» قَالَ: يَلْقَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِوُجُوهٍ مُشْرِقَةٍ، فَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، فَغَضِبَ حَتَّى اسْتَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ إِيمَانٌ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَا بَالُ رِجَالٍ يُؤْذُونَنِي فِي الْعَبَّاسِ؟ فَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ»
ترجمہ

سیدنا مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اللہ ﷺ کے پاس غصے کی حالت میں آئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں کیا بات یہاں لے آئی؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں قریش سے کیا سلوک ملتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں ان سے کیا واسطہ پیش آیا کہ تم یہاں چلے آئے؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ آپس میں ایک دوسرے سے خوش رو ہو کر ملتے ہیں، اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اس کے برعکس سلوک کرتے ہیں۔ یہ سن کر آپ ﷺ کو غصہ آ گیا حتیٰ کہ آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان پسینہ چھلک آیا، پھر جب غصہ اتر گیا تو فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی آدمی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا جب تک وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرے۔“ پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ عباس کے بارے میں مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں؟ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17808
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 285، حدیث 674