المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب بن هشام بن عبد مناف " ويقال: عبد المطلب، والصواب: المطلب، ومات بدمشق، وكان يسكن بها، فتوفي سنة إحدى وستين " باب: سیدنا مطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف رضی اللہ عنہ (یہ بھی کہا گیا: عبدالمطلب، صحیح نام مطلب ہے؛ دمشق میں مقیم رہے اور وہیں اکسٹھ ہجری میں وفات پائی)
حدیث نمبر: 17806
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ؟ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبَشِّرَةٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ»ترجمہ
سیدنا مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: ہمیں قریش سے کیا سلوک ملتا ہے؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش رو ہو کر ملتے ہیں، اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اس کے برعکس سلوک کرتے ہیں؟ راوی کہتے ہیں: یہ سن کر نبی کریم ﷺ کو غصہ آ گیا حتیٰ کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر فرمایا: ”کسی آدمی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرے، آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہے۔“