المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن ميمون الأودي، عن معاذ بن جبل باب: عمرو بن میمون اودی کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17391
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ؟ حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»ترجمہ
…محمد بن عباس مؤدب کے واسطے سے، وہ عبداللہ بن صالح عجلی سے، وہ اسرائیل سے، وہ ابواسحاق سے، وہ عمرو بن میمون اودی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے، اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس حال میں مرے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“