حدیث نمبر: 17392
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ، فَقَالَ لِي: «يَا مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ فَقَالَ: «لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا»
ترجمہ

…ابوالاحوص کے واسطے سے، وہ ابواسحاق سے، وہ عمرو بن میمون سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ یہ کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو“، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں خوشخبری مت سناؤ، ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17392
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 127، حدیث 256