حدیث نمبر: 17390
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرِي يَا مُعَاذُ مَا حَقُّ اللهِ عَلَى النَّاسِ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «حَقُّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، تَدْرِي يَا مُعَاذُ مَا حَقُّ النَّاسِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: «دَعْهُمْ يَعْمَلُونَ»
ترجمہ

…اسحاق بن ابراہیم دبری کے واسطے سے، وہ عبدالرزاق سے، وہ معمر سے، وہ ابواسحاق سے، وہ عمرو بن میمون سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان پر اس کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب وہ ایسا کر لیں تو لوگوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، وہ عمل کرتے رہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17390
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 126، حدیث 254