حدیث نمبر: 17277
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ، وَأَبُو زَيْدٍ الْحُوطِيَّانِ قَالَا: ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ غَزَا تَبُوكًا، فَأَدْلَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَدْلَجْنَا مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، ثُمَّ اغْتَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ، فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَفَرَّقَتِ الرِّفَاقُ وَالْإِبِلُ تَأْكُلُ عَلَى أَفْوَاهِهَا، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ، فَلَمَحْتُ عَيْنِيْ حَلْقَةِ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ، وَأَنَا أَحْسِبُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ تَنَادَلَتْ نَاقَتِي رَنَّةً فَأَفْسَدَتْهَا، فَالْتَوَى فِرْسَنُها، فَفَزِعِتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَرْعِهَا، وَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَفَتَ فَأَبْصَرَنِي فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ» قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «ادْنُ» فَدَنَوْتُ، فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَدَنَوْتُ حَتَّى تَحَالَّتِ الرَّاحِلَتَانِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: فِي نَفْسِي كَلِمَةٌ قَدْ أَخَذَتْنِي وَأَمْرَضَتْنِي لَمْ أَسْأَلْكَ عَنْهَا، وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَسْأَلُكَ عَنْهَا، قَالَ: «سَلْنِي يَا مُعَاذُ» ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي يَا رَسُولَ اللهِ عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: " بَخٍ بَخٍ، قَدْ سَأَلْتَ عَنْ أَمَرٍ عَظِيمٍ، إِلَّا أَنَّهُ يَسِيرٌ: تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ، وَتَعْبُدُ اللهَ وَحْدَهُ "
ثُمَّ أَقْبَلْتُ عَلَيْهِ أَسْأَلُهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ الصَّلَاةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ؟ قَالَ: «لَا، وَنِعْمَ، مَا هِيَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الزَّكَاةُ بَعْدَ الزَّكَاةِ الْمَفْرُوضَةِ؟ قَالَ: «لَا، وَنِعْمَ، مَا هِيَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَالصِّيَامُ بَعْدَ الصِّيَامِ الْمَفْرُوضِ؟ قَالَ: «لَا، وَنِعْمَ مَا هُوَ» ، قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ يَا مُعَاذُ بِرَأْسِ هَذَا الْأَمْرِ وَقِوَامِهِ وَذُرْوَةِ السَّنَامِ مِنْهُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «رَأْسُ هَذَا الْأَمْرِ تَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ قِوَامَهُ إِقَامَةُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنَّ ذِرْوَةَ السَّنَامِ مِنْهُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا تَغَبَّرَتْ قَدَمَا عَبْدٍ قَطُّ وَلَا وَجْهُهُ فِي عَمِلٍ أَفْضَلَ عِنْدِ اللهِ بَعْدُ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ

…تو اس کا پاؤں مڑ گیا، رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی اس کی ٹھوکر سے چونک اٹھی، اور نبی کریم ﷺ بیدار ہو گئے، پھر مڑ کر دیکھا تو مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: ”اے معاذ!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب آؤ“، تو میں قریب ہوا، آپ ﷺ نے یہ بات تین بار کہی، تو میں اتنا قریب ہو گیا کہ دونوں سواریاں ایک دوسرے سے مل گئیں، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے دل میں ایک بات ہے جو مجھے پریشان اور بیمار کیے ہوئے ہے، میں نے نہ آپ سے اس کے بارے میں پوچھا اور نہ کسی کو آپ سے اس کے بارے میں پوچھتے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے پوچھو، اے معاذ!“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بخ بخ، تم نے بہت بڑی بات کے بارے میں پوچھا ہے، لیکن یہ آسان ہے: تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ ہی کی اکیلے عبادت کرو۔“
پھر میں دوبارہ آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھنے لگا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کون سا عمل افضل ہے؟ کیا ایک نماز کے بعد دوسری نماز؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اگرچہ وہ بھی اچھی چیز ہے“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرض زکوٰۃ کے بعد (نفلی) زکوٰۃ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اگرچہ وہ بھی اچھی چیز ہے“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرض روزے کے بعد (نفلی) روزہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اگرچہ وہ بھی اچھی چیز ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس معاملے کا سر، اس کا ستون، اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں، اے معاذ؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس معاملے کا سر یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اور اس کا ستون نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے، اور اس کی چوٹی اللہ کے راستے میں جہاد ہے، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کسی بندے کے قدموں اور چہرے پر کبھی اس عمل سے زیادہ افضل عمل کی گرد نہیں پڑی“، پھر پوری حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17277
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 75، حدیث 141