حدیث نمبر: 17276
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحُوطِيَّانِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ: يَعْفُورٌ، وَرَسَنُهُ مِنْ لِيفٍ، فَقَالَ: «ارْكَبْ يَا مُعَاذُ» قُلْتُ: سِرْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «ارْكَبْ» فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ، فَصُرِعَ بِنَا الْحِمَارُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، ثُمَّ رَكِبَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ: «ارْكَبْ» فَرَكِبْتُ، فَسَارَ بِنَا الْحِمَارُ مَا شَاءَ اللهُ، قَالَ: وَأَخْلَفَ بِيَدِهِ فَضَرَبَ بِهَا ظَهْرِي بِسَوْطٍ كَانَ مَعَهُ - أَوْ عَصًا - فَقَالَ: «يَا مُعَاذَ بْنَ أُمِّ مُعَاذٍ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى النَّاسِ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقَّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» ، ثُمَّ سَارَ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ أَخْلَفَ بِيَدِهِ فَضَرَبَ ظَهْرِي فَقَالَ: «يَا مُعَاذَ بْنَ أُمِّ مُعَاذٍ، تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ أنْ يُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ»
ترجمہ

…زہری کے واسطے سے، وہ عبدالرحمٰن بن غنم سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک گدھے پر سوار ہوئے جسے یعفور کہا جاتا تھا، اور اس کی نکیل کھجور کے چھال کی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ، اے معاذ!“ میں نے عرض کیا: آپ چلیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ“، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، پھر گدھا ہمیں لے کر گر گیا، تو رسول اللہ ﷺ ہنستے ہوئے اٹھے، پھر دوبارہ سوار ہوئے اور فرمایا: ”سوار ہو جاؤ“، تو میں سوار ہو گیا، پھر گدھا ہمیں لے کر جتنا اللہ نے چاہا چلا، راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور اپنے کوڑے - یا لاٹھی - سے، جو آپ کے پاس تھی، میری پیٹھ پر مارا اور فرمایا: ”اے معاذ بن ام معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں“، پھر جتنا اللہ نے چاہا چلے، پھر اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور میری پیٹھ پر مارا اور فرمایا: ”اے معاذ بن ام معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب وہ ایسا کر لیں تو بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جب وہ ایسا کر لیں تو وہ انہیں جنت میں داخل کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17276
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 75، حدیث 140