حدیث نمبر: 17275
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التِّرْمِذِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ الْقُرَشِيُّ، عَنِ الْخَصِيبِ بْنِ جَحْدَرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ رَفَعَ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ أَرْسَلَهُمَا ثُمَّ سَكَتَ، وَرُبَّمَا رَأَيْتُهُ يَضَعُ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ سَكَتَ، فَإِذَا خَتَمَ السُّورَةَ سَكَتَ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ، وَيُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ، وَكُنَّا لَا نَرْكَعُ حَتَّى نَرَاهُ رَاكِعًا، ثُمَّ يَسْتَوِي قَائِمًا مِنْ رُكُوعِهِ، حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عُضْوٍ مَكَانَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ، وَيُكَبِّرُ وَيَخِرُّ سَاجِدًا، وَكَانَ يُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ وَأَنْفَهُ مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّهُ السَّهْمُ لَا يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ، وَكَانَ إِذَا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ اعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَيَدُهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِذَا دَعَا، وَكَانَ إِذَا سَلَّمَ أَسْرَعَ الْقِيَامَ»
ترجمہ

…عبداللہ بن احمد بن حنبل کے واسطے سے، وہ صالح بن عبداللہ ترمذی سے، وہ محبوب بن حسن قرشی سے، وہ خصیب بن جحدر سے، وہ نعمان بن نعیم سے، وہ عبدالرحمٰن بن غنم سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب نماز میں ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے سامنے تک اٹھاتے، پھر جب تکبیر کہتے تو انہیں چھوڑ دیتے پھر خاموش ہو جاتے، اور بعض اوقات میں نے آپ ﷺ کو اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے دیکھا، پھر جب سورۃ فاتحہ سے فارغ ہوتے تو خاموش ہو جاتے، اور جب سورت مکمل کرتے تو خاموش ہو جاتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے سامنے تک اٹھاتے، تکبیر کہتے اور رکوع کرتے، اور ہم رکوع نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو رکوع کرتے دیکھ لیتے، پھر اپنے رکوع سے سیدھے کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر آ جاتا، پھر اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے سامنے تک اٹھاتے، تکبیر کہتے اور سجدے میں گر جاتے، اور آپ ﷺ اپنی پیشانی اور ناک کو زمین پر جما لیتے، پھر ایسے اٹھتے جیسے تیر (سیدھے) ہوں، اپنے ہاتھوں پر سہارا نہ لیتے، اور جب اپنی نماز کے آخر میں بیٹھتے تو اپنی بائیں ران پر سہارا لیتے، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھتے، اور دعا کرتے وقت اپنی انگلی سے اشارہ کرتے، اور جب سلام پھیرتے تو جلدی سے کھڑے ہو جاتے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17275
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 74، حدیث 139