حدیث نمبر: 17217
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطْرَانِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤَخِّرَاتُ الرَّحْلِ، فَقَالَ لِي: «يَا مُعَاذُ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقَّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»
ترجمہ

…ہمام کے واسطے سے، وہ قتادہ سے، وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا، اور میرے اور آپ ﷺ کے درمیان صرف کجاوے کا پچھلا حصہ حائل تھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ!“ میں نے عرض کیا: حاضر ہوں یا رسول اللہ، اور خوشی سے حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔“ پھر کچھ دیر چلتے رہے، پھر فرمایا: ”اے معاذ بن جبل!“ میں نے عرض کیا: حاضر ہوں اور خوشی سے حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ جب بندے یہ کر لیں تو اللہ پر ان کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17217
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 48، حدیث 81