حدیث نمبر: 1699
ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: «أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى وَلَلآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى} [الضحى: ٤]
ترجمہ

اسود بن قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جبریل علیہ السلام کو رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے میں دیر ہوگئی، تو مشرکین نے کہا: محمد کو چھوڑ دیا گیا ہے، تو اللہ عزوجل نے اپنے رسول ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی: ”تیرے رب نے نہ تجھے چھوڑا اور نہ ناراض ہوا، اور یقیناً آخرت تیرے لیے دنیا سے بہتر ہے، اور عنقریب تیرا رب تجھے اتنا عطا فرمائے گا کہ تو راضی ہوجائے گا“ [سورۃ الضحیٰ: 4]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1699
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 173، حدیث 1712