المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الأسود بن قيس، عن جندب باب: اسود بن قیس کی سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 1697
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: " احْتَبَسَ جِبْرِيلُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ بَنَاتِ عَمِّهِ: مَا أَرَى صَاحِبَكَ إِلَّا قَدْ قَلَاكَ " قَالَ: فَنَزَلَتْ: {وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى} [الضحى: ٢] وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍترجمہ
اسود بن قیس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: جبریل علیہ السلام کچھ عرصہ نبی کریم ﷺ کے پاس نہ آئے، تو آپ ﷺ کی بعض چچازاد بہنوں نے کہا: میرا خیال ہے تمہارے ساتھی نے تمہیں ناراض ہوکر چھوڑ دیا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ چھا جائے، تیرے رب نے نہ تجھے چھوڑا اور نہ ناراض ہوا“ [سورۃ الضحیٰ: 2] - یہ الفاظ عمرو بن مرزوق کی روایت کے ہیں۔