المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
القاسم أبو عبد الرحمن، عن معاوية باب: قاسم، ابوعبدالرحمن، کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: مَا أَحَادِيثُ بَلَغَنِي عَنْكَ تُحَدِّثُ بِهَا؟، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْفِيَكَ مِنَ الشَّامِ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَوْلَا إِنَاثٌ مَا أَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ بِهَا سَاعَةً، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا حَدِيثٌ تُحَدِّثُ بِهِ فِي الطِّلَا؟، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ مَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ تَقَوَّلَ عَلِيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْخَمْرِ: «مَنْ وَضَعَهَا عَلَى كَفِّهِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ دَعْوَةٌ، وَمَنْ أَدْمَنَ عَلَى شُرْبِهَا سُقِيَ مِنَ الْخَبَالِ» ، وَالْخَبَالُ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ، فَقَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ سَمِعْتَ مِثْلَ الَّذِي سَمِعْتُ قَالَ: فَهَمَّ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُصَدِّقَهُ ثُمَّ سَكَتَقاسم ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو بلوا بھیجا اور فرمایا: یہ کیسی حدیثیں ہیں جن کے بارے میں مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم انہیں بیان کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ تمہیں شام سے جلا وطن کر دوں۔ انہوں نے کہا: سنیے! اللہ کی قسم! اگر (میرے گھر کی) عورتیں نہ ہوتیں تو میں ایک گھڑی بھی یہاں رہنا پسند نہ کرتا۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے (ان سے) پوچھا: تم ”طِلاء“ (پکائی ہوئی انگور کی شیرہ) کے بارے میں کیا حدیث بیان کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سنیے! میرے لیے یہ حلال نہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ پر وہ بات کہوں جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی، میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو شخص مجھ پر وہ بات گھڑے جو میں نے نہیں کہی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو شراب کے بارے میں یہ فرماتے سنا: ”جو شخص اسے اپنی ہتھیلی پر رکھے، اس کی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی، اور جو اس کے پینے پر ہمیشگی اختیار کرے اسے خبال پلایا جائے گا۔“ اور خبال جہنم کی ایک وادی ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: اے معاویہ! میرا خیال ہے کہ آپ نے بھی وہی کچھ سنا ہے جو میں نے سنا ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تصدیق کرنے کا ارادہ کیا پھر خاموش ہو گئے۔