❮
❯
حدیث نمبر: 16734
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مِنْهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ يُرِيدُ مَكَّةَ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ الْأَبْوَاءِ، فَاطَّلَعَ فِي بِئْرٍ عَادِيَّةٍ فَأَصَابَتْهُ لَقْوَةٌ، فَأَجَدَّ السَّيْرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَاهُ الْحَاجِبُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ النَّاسُ بِالْبَابِ مَا أَفْقِدُ وَجْهًا، قَالَ: فَأَبْسِطْ لِي إِذًا قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِعِمَامَةٍ فَلَفَّ بِهَا رَأْسَهُ وَشَقَّ وَجْهَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنْ أُعَافَ فَقَدْ عُوفِيَ الصَّالِحُونَ قَبْلِي، وَمَا أُسِرُّ أَنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِنْهُمْ، وَإِنْ كَانَ مَرِضَ مِنِّي عُضْوٌ فَمَا أُحْصِي صَحِيحِي، وَإِنْ كَانَ وَجِدَ عَلِيَّ بَعْضُ خَاصَّتِكُمْ فَقَدْ كُنْتُ حَرْبًا عَلَى عَامَّتِكُمْ، وَمَا لِي أَنْ أَتَمَنَّى عَلَى اللهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَانِي، فَرَحِمَ اللهُ رَجُلًا دَعَا لِي بِالْعَافِيَةِ» ، فَارْتَجَّتِ الْأَصْوَاتُ بِالدُّعَاءِ فَاسْتَبْكَى، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟، قَالَ: رَاجَعْتُ مَا كُنْتُ عَنْهُ عَزُوفًا، كَبِرَتْ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، وَكَثُرَ الدُّمُوعُ فِي عَيْنِي، وَرُمِيتُ فِي أَحْسَنِي وَمَا يَبْدُو مِنِّي وَلَوْلَا هَوًى مِنِّي فِي يَزِيدَ أَبْصَرْتُ قَصْدِي
ترجمہ

امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ شام سے مکہ جانے کے ارادے سے نکلے، تو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام پر اترے جسے ابواء کہا جاتا تھا، وہاں انہوں نے ایک قدیم کنویں میں جھانکا تو انہیں لقوہ (چہرے کا فالج) لاحق ہو گیا، تو انہوں نے تیزی سے سفر جاری رکھا یہاں تک کہ مکہ پہنچے، تو ان کے پاس دربان آیا اور کہا: اے امیر المومنین! لوگ دروازے پر ہیں، میں کسی کا چہرہ غائب نہیں پاتا۔ انہوں نے کہا: تو پھر میرے لیے اسے بچھا دو۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے عمامہ منگوایا اور اپنے سر پر لپیٹا اور اپنا چہرہ کھولا، پھر باہر نکلے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”امابعد! اگر مجھے عافیت دی جائے تو مجھ سے پہلے صالحین کو بھی عافیت دی گئی، اور میں چھپاتا نہیں کہ مجھے امید ہے کہ میں انہی میں سے ہوں، اور اگر میرا کوئی عضو بیمار ہے تو میں اپنے تندرست اعضاء کو شمار نہیں کر سکتا، اور اگر تم میں سے کسی خاص کو مجھ پر کچھ ناگواری ہے تو میں تمہاری عوام پر نرمی کرنے والا رہا ہوں، اور مجھے یہ حق نہیں کہ اللہ سے اس سے زیادہ کی تمنا کروں جو اس نے مجھے عطا کیا، پس اللہ اس پر رحم کرے جو میرے لیے عافیت کی دعا کرے۔“ اس پر آوازیں دعا سے بلند ہو گئیں اور وہ رونے لگے۔ مروان نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ انہوں نے کہا: میں اس چیز کی طرف لوٹ آیا ہوں جس سے میں بےرغبت تھا، میری عمر بڑھ گئی، میری ہڈیاں کمزور ہو گئیں، میری آنکھوں میں آنسو زیادہ ہو گئے، اور میں اپنی بہترین اور ظاہری حالت میں نشانہ بنا، اور اگر یزید کی طرف میرا میلان نہ ہوتا تو میں اپنا صحیح راستہ دیکھ لیتا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16734
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 306، حدیث 685