حدیث نمبر: 16663
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، أَنَّ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَعْنِي أَبَاهُ، أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَطْمَارٌ، فَقَالَ: «يَا عَوْفُ بْنَ مَالِكٍ» أَلَيْسَ تُنْتَجُ إِبِلُكَ وَهِيَ صَحِيحَةٌ آذَانُهَا فَتَعْمَدَ إِلَى بَعْضِهَا فَتَجْدَعَهَا فَتَقُولَ: هَذِهِ بَحِيرَةٌ، وَتَعْمَدَ إِلَى بَعْضِهَا فَتَشُقَّ آذَانَهَا، ثُمَّ تَقُولُ هَذِهِ صُرُمٌ، فَلَا تَفْعَلْ، سَاعِدُ اللهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ، وَمُوسَى اللهِ أَحَدُّ كُلُّ مَا آتَاكَ اللهُ حَلَالٌ، وَلَا تُحَرِّمْ مِنْ مَالِكَ شَيْئًا "، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «يَا عَوْفُ بْنَ مَالِكٍ غُلَامُكَ الَّذِي يُطِيعُكَ وَيَتَّبِعُ أَمَرَكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ غُلَامُكَ الَّذِي لَا يُطِيعُكَ وَلَا يَتَّبِعُ أَمَرَكَ؟» ، قَالَ: بَلْ غُلَامِي الَّذِي يُطِيعُنِي وَيَتَّبِعُ أَمْرِي، قَالَ: «فَكَذَلِكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَعَالَى»
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ — یعنی راوی کے والد — نبی کریم ﷺ کے پاس پرانے پھٹے کپڑوں میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عوف بن مالک! کیا تمہارے اونٹ صحیح سالم کانوں کے ساتھ نہیں جنتے، پھر تم ان میں سے بعض کو کاٹ کر کہتے ہو یہ بحیرہ ہے، اور بعض کے کان چیر کر کہتے ہو یہ صُرُم ہیں؟ ایسا نہ کرو، اللہ کا بازو تمہارے بازو سے زیادہ مضبوط ہے، اور اللہ کی چھری زیادہ تیز ہے، جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے وہ سب حلال ہے، اپنے مال میں سے کوئی چیز حرام مت کرو۔“ پھر ان سے فرمایا: ”اے عوف بن مالک! تمہارا وہ غلام جو تمہاری اطاعت کرے اور تمہارے حکم کی پیروی کرے وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا وہ غلام جو تمہاری اطاعت نہ کرے اور تمہارے حکم کی پیروی نہ کرے؟“ انہوں نے عرض کیا: بلکہ وہ غلام جو میری اطاعت کرے اور میرے حکم کی پیروی کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی اپنے رب تعالیٰ کے نزدیک ایسے ہی ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16663
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 279، حدیث 614