حدیث نمبر: 16662
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: دَخَلَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِيَابِ أَسْمَالٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟» ، قَالَ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللهُ، مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: «فَلْيُرَ عَلَيْكَ مَا آتَاكَ اللهُ»
قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ مَرَرْتُ بِهِ فَأَبَى أَنْ يُقْرِيَنِي فَأَلْجَأَهُ الدَّهْرُ إِلَيَّ، أَفَأُقْرِيهِ أَمْ أَمْنَعُهُ؟، قَالَ: «بَلْ أَقْرِهِ»
ترجمہ

سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ابوالاحوص بیان کرتے ہیں کہ میرے والد پرانے پھٹے پرانے کپڑوں میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہر قسم کا مال جو اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے، اونٹ، گائے اور بکریاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے وہ تم پر ظاہر ہونا چاہیے۔“
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی جس کے پاس سے میرا گزر ہوا اس نے میری مہمان نوازی سے انکار کیا، پھر زمانہ اسے مجبور کر کے میرے پاس لے آیا، تو کیا میں اس کی مہمان نوازی کروں یا اسے روک دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اس کی مہمان نوازی کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16662
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 279، حدیث 613