المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب: ومن غرائب مسند أبي ذر رحمه الله باب: ابوذر رضی اللہ عنہ کی مسند کی نادر روایات
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَاذَا يُنَجِّي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللهِ» قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمِلٌ، قَالَ: «يُرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللهُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فَقِيرًا، لَا يَجِدُ مَا يُرْضَخُ بِهِ؟ قَالَ: «يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَيِيًّا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَا يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: «يَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَخْرَقَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ شَيْئًا؟ قَالَ: «يُعِينُ مَغْلُوبًا» ، قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ ضَعِيفًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُعِينَ مَظْلُومًا؟ فَقَالَ: «مَا تُرِيدُ أَنْ تَتْرُكَ فِي صَاحِبِكَ، مِنْ خَيْرٍ تُمْسِكُ الْأَذَى، عَنِ النَّاسِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَفْعَلُ خَصْلَةً مِنْ هَؤُلَاءِ، إِلَّا أَخَذَتْ بِيَدِهِ حَتَّى تُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ»مالک بن مرثد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کہا: یا رسول اللہ، بندے کو جہنم سے کیا چیز نجات دیتی ہے؟ فرمایا: ”اللہ پر ایمان۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی، کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی ہے؟ فرمایا: ”اللہ نے اسے جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، اگر وہ فقیر ہو اور اسے خرچ کرنے کے لیے کچھ نہ ملے تو؟ فرمایا: ”نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، اگر وہ ایسا کمزور بیان والا ہو کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو؟ فرمایا: ”کسی نااہل کی مدد کرے۔“ میں نے کہا: اگر وہ خود ایسا نااہل ہو کہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو؟ فرمایا: ”کسی مظلوم کی مدد کرے۔“ میں نے کہا: اگر وہ خود اتنا کمزور ہو کہ کسی مظلوم کی مدد نہ کر سکے تو؟ فرمایا: ”تم اپنے ساتھی میں کیا خوبی باقی چھوڑنا چاہتے ہو؟ لوگوں کو تکلیف دینے سے رک جائے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، اگر وہ یہ کر لے تو جنت میں داخل ہوجائے گا؟ فرمایا: ”جو مسلمان بھی ان خصلتوں میں سے کوئی ایک خصلت اپنائے تو وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے جنت میں داخل کر دے گی۔“