حدیث نمبر: 1638
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمُقْرِئُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِنِي قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ فَإِنَّهَا رَأْسُ أَمْرِكَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَكَ نُورٌ فِي السَّمَاوَاتِ وَنَورٌ فِي الْأَرْضِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «لَا تُكْثِرِ الضَّحِكِ فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ وَيُذْهِبُ نُورَ الْوَجْهِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّمْتِ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّهُ مَرَدَّةٌ لِلشَّيْطَانِ عَنْكَ وَعَوْنٌ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «انْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَكَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكَ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرِي نِعْمَةَ اللهِ عِنْدَكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «صِلْ قَرَابَتَكَ وَإِنْ قَطَعُوكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «لَا تَخَفْ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «تُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ» ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي، فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرًّ لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ وَلَا حَسَبَ كَحُسْرِ الْخُلُقِ»
ترجمہ

ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کہا: یا رسول اللہ، مجھے نصیحت کیجیے۔ فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارے ہر معاملے کی اصل ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ آسمانوں میں تمہارے لیے نور اور زمین میں بھی نور ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”زیادہ ہنسنے سے بچو، کیونکہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کے نور کو ختم کر دیتا ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”جہاد کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ میری امت کی رہبانیت ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”خیر کے سوا خاموشی اختیار کرو، کیونکہ یہ تم سے شیطان کو دور رکھنے اور تمہارے دین کے معاملے میں تمہاری مدد کا ذریعہ ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”اس کی طرف دیکھو جو تم سے کم تر ہے اور اس کی طرف نہ دیکھو جو تم سے بلند تر ہے، کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ جانو جو تمہارے پاس ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو اگرچہ وہ تم سے قطع تعلق کریں۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت ڈرو۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا: ”اے ابوذر، تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں، بچاؤ جیسا کوئی تقویٰ نہیں، اور اچھے اخلاق جیسا کوئی حسب نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1638
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 157، حدیث 1651