المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
إسحاق بن كعب بن عجرة، عن أبيه كعب باب: اسحاق بن کعب بن عجرہ کی اپنے والد سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ سَبْعَةٌ، ثَلَاثَةٌ عَرَبًا وَأَرْبَعَةٌ مَوَالِينَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: «مَا يُجْلِسُكُمْ هَهُنَا؟» ، قُلْنَا: نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، فَنَكَتَ بِأَصَابِعِهِ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ نَكَسَ سَاعَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِلَيْنَا رَأْسَهُ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ؟» ، قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ لِوَقْتِهَا فَأَقَامَ حَدَّهَا كَانَ لَهُ عَهْدٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَوَاتِ لِوَقْتِهَا وَيُقِمْ حَدَّهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ إِنْ شِئْتُ أَدْخَلْتُهُ النَّارَ وَإِنْ شِئْتُ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ "سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم تین عرب اور چار موالی میں سے تھے، تو نبی کریم ﷺ اپنے کسی حجرے سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے زمین پر کریدنا شروع کیا، پھر تھوڑی دیر سر جھکائے رہے، پھر ہماری طرف اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے تمہارا رب عزوجل کیا فرماتا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فرماتا ہے: جو نمازیں ان کے وقت پر پڑھے اور ان کی حدود قائم رکھے، اس کے لیے یہ عہد ہو گا کہ میں اسے جنت میں داخل کروں۔ اور جو نمازیں ان کے وقت پر نہ پڑھے اور ان کی حدود قائم نہ رکھے، اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں ہو گا، اگر میں چاہوں تو اسے آگ میں داخل کروں اور اگر چاہوں تو اسے جنت میں داخل کروں۔“