حدیث نمبر: 16122
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقَ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ أَبَانَ عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: كَانَ إِسْلَامُ قَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ وَغَيْرِهِمْ مِنَ الْعَرَبِ أَتَوْهُ، فَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ خَرَجَ يَدْعُو إِلَى دَيْنٍ غَيْرِ دِينِنَا، فَقَامَ قَبَاثٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ، قَالَ لَهُ: «اجْلِسْ يَا قَبَاثُ» ، فَأَوْهَمَ قَبَاثٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ الْقَائِلُ: لَوْ خَرَجَتْ نِسَاءُ قُرَيْشٍ بِأَكِمَّتِهَا رَدَّتْ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ "، فَقَالَ قَبَاثٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا تَحَرَّكَ بِهِ لِسَانِي، وَلَا تَرَمْرَمَتْ بِهِ شَفَتَايَ، وَلَا سَمِعَهُ مِنِّي أَحَدٌ، وَمَا هُوَ إِلَّا شَيْءٌ هَجَسَ فِي نَفْسِي، أَشْهَدُ أَلَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «وَإِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ حَقٌّ»
ترجمہ

...تو لوگوں نے کہا: محمد بن عبدالمطلب ایک ایسے دین کی طرف بلاتے ہوئے نکلے ہیں جو ہمارے دین سے مختلف ہے۔ تو قباث رضی اللہ عنہ اٹھے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، جب وہ آپ ﷺ کے پاس داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ اے قباث!“ تو قباث کو وہم ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم وہ کہنے والے ہو کہ اگر قریش کی عورتیں اپنی آستینیں لے کر نکل آتیں تو محمد اور اس کے ساتھیوں کو بھگا دیتیں؟“ قباث نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، نہ میری زبان نے یہ بات حرکت میں لائی، نہ میرے ہونٹوں نے اسے کہا، اور نہ کسی نے یہ بات مجھ سے سنی، یہ تو صرف ایک خیال تھا جو میرے دل میں آیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور بےشک جو کچھ تم لے کر آئے ہو وہ حق ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16122
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 35، حدیث 72