حدیث نمبر: 16121
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو سَلَمَةَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: جَلَسَ إِلَيْنَا شَيْخٌ فِي دُكَّانِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، فَسَمِعَ قَوْمًا يَتَحَدَّثُونَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلَايَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ فَسَمِّهِ، قَالَ: قُرَّةُ بْنُ دَعْمُوصَ النُّمَيْرِيُّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَجَعَلْتُ " أُرِيدُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ، فَنَادَيْتُهُ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِلْغُلَامِ النُّمَيْرِيِّ، قَالَ: «غَفَرَ اللهُ لَكَ»
قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَاعِيًا عَلَى قَوْمِي، فَلَمَّا رَجَعَ فَجَاءَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَيْتَ هِلَالَ بْنَ عَامِرٍ، وَنُمَيْرَ بْنَ عَامِرٍ، وَعَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ فَأَخَذْتَ جِلَّةَ أَمْوَالِهِمْ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ الْغَزْوَ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ بِإِبِلٍ تَرْكَبُهَا وَتَحْمِلُ عَلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الَّتِي تَرَكْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّتِي أَخَذْتَ، أَرْدُدْهَا وَخُذْ صَدَقَاتِهِمْ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ» ، قَالَ: فَسَمِعْتُ الْمُسْلِمِينَ يُسَمُّونَ تِلْكَ الْإِبِلَ الْمُجَاهِدَاتِ
ترجمہ

میں مدینہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ کے ساتھ لوگ بھی تھے، میں نے آپ ﷺ کے قریب ہونا چاہا مگر نہ ہو سکا، تو میں نے آپ ﷺ کو پکارا: یا رسول اللہ! نمیری لڑکے کے لیے استغفار کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تجھے بخش دے۔“
اور رسول اللہ ﷺ نے ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کو میری قوم پر زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، جب وہ واپس آئے تو موٹے تازے اونٹ لے کر آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ہلال بن عامر، نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس گئے اور ان کے اموال کے بہترین اونٹ لے لیے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو جہاد کا ذکر کرتے سنا تھا، تو میں نے چاہا کہ آپ کے پاس ایسے اونٹ لاؤں جن پر آپ سوار ہو سکیں اور بوجھ لاد سکیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم نے چھوڑے وہ مجھے ان سے زیادہ پسند ہیں جو تم نے لیے، انہیں واپس کرو اور ان کی زکاۃ ان کے عام درمیانے درجے کے اموال میں سے لو۔“ تو میں نے مسلمانوں کو ان اونٹوں کو ”مجاہدات“ (جہاد کرنے والے اونٹ) کہتے سنا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16121
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 34، حدیث 71