❮
❯
حدیث نمبر: 16019
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عُطَارِدٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِي مَنْظُورٍ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ، عَنْ أَبِي كَاهِلٍ، قَالَ: قَالَ لي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا كَاهِلٍ أَلَا أُخْبِرُكَ بِقَضَاءٍ قَضَاهُ اللهُ عَلَى نَفْسِهِ؟ قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «أَحْيَى اللهُ قَلْبَكَ وَلَا يُمِيتُهُ حَتَّى يَمُوتَ بَدَنُكَ، اعْلَمْ
يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ لَنْ يَغْضَبَ رَبُّ الْعِزَّةِ عَلَى مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَخَافَةٌ، وَلَا تَأْكُلُ النَّارُ مِنْهُ هُدْبَةً، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ سَتَرَ عَوْرَتَهُ حَيَاءً مِنَ اللهِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْتُرَ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ دَخَلَ حَلَاوَةُ الصَّلَاةِ قَلْبَهُ حَتَّى يُتِمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَلَّى أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَامَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مَعَ شَهْرِ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَرْوِيَهُ يَوْمَ الْعَطَشِ، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ كَفَّ أَذَاهُ عَنِ النَّاسِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَكُفَّ عَنْهُ أَذَى الْقَبْرِ، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ حَيًّا وَمَيِّتًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ يَبَرُّ وَالِدَيْهِ إِذَا كَانَا مَيِّتَيْنِ؟ قَالَ: «بِرُّهُمَا أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِوَالِدَيْهِ، وَلَا يَسُبَّ وَالِدِي أَحَدٍ فَيَسُبَّ وَالِدَيْهِ، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ عِنْدَ حُلُولِهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَجْعَلَهُ مِنْ رُفَقَاءِ الْأَنْبِيَاءِ، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ قَلَّتْ عِنْدَهُ حَسَنَاتُهُ وَعَظُمَتْ عِنْدَهُ سَيِّئَاتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُثَقِّلَ مِيزَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ سَعَى عَلَى امْرَأَتِهِ وَوَلَدِهِ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ يُقِيمُ فِيهِمْ أَمَرَ اللهِ، وَيُطْعِمُهُمْ مِنْ حَلَالٍ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَجْعَلَهُ مِنَ الشُّهَدَاءِ فِي دَرَجَاتِهِمْ، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَكُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حُبًّا بِي وَشَوْقًا إِلَيَّ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ ذُنُوبَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَذَلِكَ الْيَوْمَ، اعْلَمَنَّ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ مُسْتَيْقِنًا بِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَغْفِرَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ ذُنُوبَ حَوْلٍ»
ترجمہ

سیدنا ابوکاہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوکاہل! کیا میں تمہیں ایک ایسے فیصلے کی خبر نہ دوں جو اللہ نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے دل کو زندہ رکھے اور اسے اس وقت تک نہ مارے جب تک تمہارا بدن نہ مر جائے۔ جان لو، اے ابوکاہل! رب العزت اس شخص پر ہرگز ناراض نہیں ہو گا جس کے دل میں (اس کا) خوف ہو، اور آگ اس کی پلک کا ایک بال بھی نہیں کھائے گی۔ جان لو، اے ابوکاہل! جو شخص اللہ سے حیا کرتے ہوئے پوشیدہ اور علانیہ اپنا ستر چھپائے، تو اللہ پر حق ہے کہ وہ قیامت کے دن اس کا ستر ڈھانپ دے۔ جان لو، اے ابوکاہل! جس شخص کے دل میں نماز کی حلاوت داخل ہو جائے یہاں تک کہ وہ اس کے رکوع اور سجدے پورے کرے، تو اللہ پر حق ہے کہ وہ قیامت کے دن اسے راضی کر دے۔ جان لو، اے ابوکاہل! جو شخص چالیس دن اور چالیس راتیں جماعت کے ساتھ اس طرح نماز پڑھے کہ تکبیرِ اولیٰ پا لے، تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس کے لیے آگ سے براءت لکھ دے۔ جان لو، اے ابوکاہل! جو شخص رمضان کے مہینے کے ساتھ ہر مہینے تین دن روزے رکھے، تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے پیاس کے دن سیراب کرے۔ جان لو، اے ابوکاہل! جو شخص لوگوں سے اپنی ایذا روک لے، تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے قبر کی تکلیف روک دے۔ جان لو، اے ابوکاہل! جو شخص اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے، زندگی میں بھی اور وفات کے بعد بھی، تو اللہ پر حق ہے کہ وہ قیامت کے دن اسے راضی کر دے۔“ (ابوکاہل رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: وہ اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کے ساتھ نیکی کیسے کرے؟ فرمایا: ”ان کے ساتھ نیکی یہ ہے کہ ان کے لیے استغفار کرے، اور کسی کے والدین کو گالی نہ دے کہ وہ جواب میں اس کے والدین کو گالی دے۔ جان لو، اے ابوکاہل! جو شخص اپنے مال کی زکاۃ اس کے وقت پر ادا کرے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے انبیاء کے رفیقوں میں شامل کر دے۔ جان لو، اے ابوکاہل! جس شخص کی نظر میں اس کی نیکیاں کم اور اس کے گناہ بڑے ہوں تو اللہ پر حق ہے کہ وہ قیامت کے دن اس کے میزان کو بھاری کر دے۔ جان لو، اے ابوکاہل! جو شخص اپنی بیوی، اپنی اولاد اور اپنے زیرِ دست لوگوں کے لیے محنت کرے، ان میں اللہ کے حکم کو قائم رکھے، اور انہیں حلال کھلائے، تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے شہداء میں ان کے درجات میں شامل کر دے۔ جان لو، اے ابوکاہل! جو شخص مجھ پر روزانہ تین بار اور ہر رات تین بار میری محبت اور میرے شوق میں درود بھیجے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس رات اور اس دن کے اس کے گناہ معاف کر دے۔ جان لو، اے ابوکاہل! جو شخص یقین کے ساتھ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس کے ہر کلمے کے بدلے ایک سال کے گناہ معاف کر دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16019
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 361، حدیث 928