المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن عائذ أبو كاهل باب: سیدنا قیس بن عائذ، ابوکاہل، رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى الشِّيرَازِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كرار، ثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى الدَّقِيقِيُّ، ثَنَا نُفَيْعُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَاهِلٍ، قَالَ: وَقَعَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامٌ حَتَّى تَضَارَبَا فَلَقِيتُ أَحَدَهُمَا فَقُلْتُ: مَالَكَ وَلِفُلَانٍ، قَدْ سَمِعْتُهُ وَهُوَ يُحْسِنُ عَلَيْكَ الثَّنَاءَ وَيَكْثُرُ لَكَ مِنَ الدُّعَاءِ، وَلَقِيتُ الْآخَرَ فَقُلْتُ لَهُ نَحْوَ ذَلِكَ، فَمَا زِلْتُ أَمْشِي بَيْنَهُمَا حَتَّى اصْطَلَحَا، فَقُلْتُ: مَا فَعَلْتُ أَهْلَكْتُ نَفْسِي وَأَصْلَحْتُ بَيْنَهُمَا وَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالْأَمْرِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا سَمِعْتُ مِنْ هَذَا شَيْئًا، وَلَا مِنْ ذَا شَيْئًا، فَقَالَ: «يَا أَبَا كَاهِلٍ أَصْلِحْ بَيْنَ النَّاسِ وَلَوْ بِكَذَا وَكَذَا» كَلِمَةٌ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ: مَا عَنَى بِهَا؟ قَالَ: عَنَى الْكَذِبَ "سیدنا ابوکاہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے دو آدمیوں کے درمیان تکرار ہو گئی یہاں تک کہ وہ آپس میں مار پیٹ پر اتر آئے۔ میں ان میں سے ایک سے ملا اور کہا: تمہارا فلاں سے کیا جھگڑا ہے؟ میں نے تو اسے تمہاری خوب تعریف کرتے اور تمہارے لیے بہت دعا کرتے سنا ہے۔ پھر میں دوسرے سے ملا تو اس سے بھی اسی طرح کہا، اور میں ان دونوں کے درمیان آتا جاتا رہا یہاں تک کہ ان میں صلح ہو گئی۔ پھر میں نے (دل میں) کہا: یہ میں نے کیا کیا؟ میں نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا اور ان دونوں کے درمیان صلح کرا دی۔ پھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو سارا معاملہ بتایا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، نہ میں نے اس سے کچھ سنا تھا اور نہ اس سے کچھ سنا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوکاہل! لوگوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو، خواہ ایسی ایسی بات کہہ کر ہو“ - ایک ایسا لفظ استعمال فرمایا جو میں نہ سمجھ سکا، تو میں نے پوچھا: آپ ﷺ کی اس سے کیا مراد تھی؟ (جواب دینے والے نے) کہا: آپ ﷺ کی مراد جھوٹ تھی۔