حدیث نمبر: 15570
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ قَالُوا: أنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلِيَّ وَهِيَ حَامِلٌ، فَأَمَرَ وَلِيَّهَا أَنْ يُحْسِنَ إِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ، فَلَمَّا وَضَعَتْ، أَمَرَ بِثِيَابِهَا، فَشُكَّتَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَجَمَهَا، وَصَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ عَلَى سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ

… آپ ﷺ نے اس کے ولی کو حکم دیا کہ وہ اس کی اچھی دیکھ بھال کرے یہاں تک کہ وہ بچہ جن لے، جب اس نے بچہ جن لیا تو آپ ﷺ نے اس کے کپڑوں کا حکم دیا اور وہ اس پر باندھ دیے گئے، پھر اسے سنگسار کیا، اور اس پر نماز پڑھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی، کیا آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ مدینہ کے ستر آدمیوں پر تقسیم کی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے، اور کیا تم نے اس سے بہتر کوئی چیز پائی ہے کہ اس نے اپنی جان اللہ عزوجل کے لیے دے دی؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15570
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 198، حدیث 479