حدیث نمبر: 15569
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُهَلَّبِ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ زَنَتْ فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَمَلَتْ مِنَ الزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ: «أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا فَائْتِنِي بِهَا» فَفَعَلَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُمْسِكَتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟» فَقَالَ: «لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ

… پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی جبکہ وہ زنا سے حاملہ ہو چکی تھی، اس نے کہا: یا رسول اللہ، مجھ سے حد کا ارتکاب ہوا ہے، مجھ پر وہ قائم کر دیجیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے ولی کو بلایا اور فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پھر جب وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لے تو اسے میرے پاس لانا۔“ اس نے ایسا ہی کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور اس کے کپڑے اس پر مضبوطی سے پکڑے گئے، پھر حکم دیا تو اسے سنگسار کیا گیا، پھر آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: ”آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے، اور کیا تم نے اس سے بہتر کوئی چیز پائی ہے کہ اس نے اپنی جان اللہ عزوجل کے لیے دے دی؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15569
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 198، حدیث 478