حدیث نمبر: 15568
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا هِشَامُ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنْ زِنًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ: «أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا فَائْتِنِي بِهَا» فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ: «لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ تِسْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَسِعَتْهُمْ، هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ

… قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی جبکہ وہ زنا سے حاملہ تھی، اس نے کہا: یا رسول اللہ، مجھ سے گناہ ہوا ہے، مجھ پر حد قائم کر دیجیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے ولی کو بلایا اور فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پھر جب وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لے تو اسے میرے پاس لانا۔“ اس نے ایسا ہی کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور اس کے کپڑے اس پر باندھ دیے گئے، پھر حکم دیا تو اسے سنگسار کیا گیا، پھر آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ مدینہ کے نوے آدمیوں میں تقسیم کر دی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے، کیا تم نے اس سے بہتر کوئی چیز پائی ہے کہ اس نے اپنی جان اللہ عزوجل کے لیے دے دی؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15568
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 198، حدیث 477