المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يونس بن عبيد عن الحسن عن عمران بن حصين باب: یونس بن عبید کی، حسن کے واسطے سے، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ثَابِتٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَوْ غَيْرِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ، فَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ، وَقَدْ نَعَسَ الْقَوْمُ، وَتَفَرَّقَتْ رِكَابُهُمْ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} [الحج: ١] إِلَى {لَكِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِيدٌ} [الحج: ٢] فَاجْتَمَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظُنُّوا أَنَّ السَّاعَةَ قَدْ قَامَتْ، فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَاكُمُ الْيَوْمُ؟» قَالُوا: أَيُّ يَوْمٍ هُوَ؟ قَالَ: " هُوَ الْيَوْمُ الَّذِي يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ فَيَقُولُ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ، فَأَبْلَسَ الْقَوْمُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ أَحَدٌ يُبْدِي عَنْ وَاضِحَةٍ " فَقَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَإِنَّهُ لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ إِلَّا بَيْنَ يَدَيْهَا جَاهِلِيَّةٌ فَتُكْمَلُ الْعِدَّةُ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَا بَقِيَ أُكْمِلَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ» ، وَقَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّمَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، وَإِنَّكُمْ بَيْنَ خَلِيقَتَيْنِ لَمْ يَكُونُوا فِي شَيْءٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ، يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ مَعَ مَنْ هَلَكَ مِنْ وَلَدِ آدَمَ وَإِبْلِيسَ»… ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے“ [الحج: 1] سے لے کر ”لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے“ [الحج: 2] تک آیت تلاوت فرمائی، تو لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس جمع ہو گئے اور سمجھے کہ قیامت قائم ہو چکی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہوگا؟“ لوگوں نے کہا: وہ کون سا دن ہے؟ فرمایا: ”وہ دن ہے جس میں اللہ عزوجل فرمائے گا: اے آدم! جہنمیوں کا گروہ نکالو۔ وہ کہیں گے: جہنمیوں کا گروہ کیا ہے؟ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم کی طرف اور ایک جنت کی طرف۔“ یہ سن کر لوگ سکتے میں آ گئے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی خوش دلی سے کچھ ظاہر نہ کر سکا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو اور خوش ہو جاؤ، کیونکہ کوئی نبوت ایسی نہیں آئی جس سے پہلے جاہلیت کا دور نہ رہا ہو، سو یہ تعداد اہلِ جاہلیت سے پوری کی جائے گی، اور جو باقی رہ جائے گی وہ منافقین سے پوری کی جائے گی۔“ اور فرمایا: ”عمل کرتے رہو اور خوش ہو جاؤ، تم تو لوگوں میں ایسے ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں تل، یا جانور کے بازو پر نشان، اور تم دو مخلوقات کے درمیان ہو جو جس چیز میں بھی شامل ہوئیں اسے بڑھا دیا: یاجوج و ماجوج، ان لوگوں کے ساتھ جو اولادِ آدم اور ابلیس میں سے ہلاک ہو چکے۔“