حدیث نمبر: 15200
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَتَى بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ، فَرَبَطَهُ إِلَى جَانِبِ الْمَسْجِدِ، وَأَمَرَ بِمَتَاعِهِ فَأُحْرِقَ فَلَمَّا صَلَّى قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَذَكَرَ الْغُلُولَ وَمَا أَنْزَلَ اللهُ فِيهِ، فَقَامَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَمَا لَا كَفَّارَةَ مِنَ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يُرْبِي، ثُمَّ يَتُوبُ فَيَتُوبُ اللهُ عَلَيْهِ، وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: ١٦١] ، وَإِنَّ اللهُ يَبْعَثُ آكِلَ الرِّبَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَجْنُونًا مُخَنَّقًا
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں کہ حبیب بن مسلمہ ایک ایسے آدمی کو لے کر آئے جس نے مالِ غنیمت میں خیانت کی تھی، اسے مسجد کے پہلو میں باندھ دیا، اور اس کے سامان کو جلانے کا حکم دیا، پھر جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور خیانت کا اور اللہ نے اس بارے میں جو نازل فرمایا اس کا ذکر کیا، تو سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! ایسے گناہوں سے بچو جن کا کوئی کفارہ نہیں، کیونکہ سود کھانے والا آدمی توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”کسی نبی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خیانت کرے، اور جو خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اپنی خیانت کی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا“ [آل عمران: 161]، اور بے شک اللہ سود کھانے والے کو قیامت کے دن دیوانہ اور گلا گھونٹا ہوا اٹھائے گا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15200
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 59، حدیث 109