حدیث نمبر: 15151
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَابِسٍ الْغِفَارِيِّ عَلَى ظَهْرِ أَجَارٍ فَأَبْصَرَ أُنَاسًا يَتَحَمَّلُونَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: يَفِرُّونَ مِنَ الطَّاعُونِ قَالَ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ، فَقَالَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ: تَمَنَّى الْمَوْتَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ» قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ، وَبَيْعُ الْحُكْمِ، واسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ أَحَدُهُمْ لِيُغَنِّيَهُمْ وَإِنْ كَانَ أَقَلُّهُمْ فِقْهًا "
ترجمہ

سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ان لوگوں کو کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا: یہ طاعون سے بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف لے لے۔ تو ان کے ایک چچازاد بھائی نے، جسے صحبت نبوی حاصل رہی تھی، کہا: موت کی تمنا کی جا رہی ہے؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے۔“ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”چھ چیزوں کے آنے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو: بےوقوفوں کی حکمرانی، پہرہ داروں کی کثرت، فیصلے کی خرید و فروخت، خون کو ہلکا سمجھنا، قطع رحمی، اور ایسے لوگوں کا پیدا ہونا جو قرآن کو گانے کا آلہ بنا لیں گے، اپنے میں سے کسی ایسے کو آگے کریں گے جو انہیں گا کر سنائے، خواہ وہ ان میں سب سے کم سمجھدار ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15151
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 36، حدیث 60