حدیث نمبر: 15150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ زُنْبُورٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، كِلَاهُمَا عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَابِسٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فَوْقَ أَجَارٍ لَهُ، فَمَرَّ قَوْمٌ يَتَحَمَّلُونَ فَقَالَ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: يَفِرُّونَ مِنَ الطَّاعُونِ فَقَالَ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي، يَا طَاعُونُ خُذْنِي، يَا طَاعُونُ خُذْنِي، فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ: وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ تَمَنَّى الْمَوْتَ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ فَإِنَّ الْمَوْتَ آخِرُ عَمَلِ الْمُؤْمِنِ لَا يَرْجِعُ فَيُسْتَعْتَبُ؟» فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي أُبَادِرُ خِلَالًا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُنَّ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَتَخَوَّفْهُنَّ عَلَى أُمَّتِهِ: «إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ، واسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ، وَنَشْوٌ يَنْشَأُ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ فِي الدِّينِ، وَلَا بِأَعْلَمِهِمْ، وَفِيهِمْ مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُمْ وَأَعْلَمُ يُقَدِّمُونَهُمْ لِيُغَنِّيَهُمْ غِنَاءً»
ترجمہ

سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اے طاعون! مجھے لے لے، اے طاعون! مجھے لے لے۔ تو ان کے ایک بھتیجے نے، جسے صحبت نبوی حاصل رہی تھی، کہا: موت کی تمنا کی جا رہی ہے؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ موت مومن کے عمل کا خاتمہ ہے، وہ واپس نہیں آتا کہ توبہ کر لے۔“ انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! میں تو ان باتوں کے ظہور سے پہلے سبقت لے جانا چاہتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ہوں گی اور آپ ﷺ ان سے اپنی امت پر خوف کھاتے تھے: ”بےوقوفوں کی حکمرانی، پہرہ داروں کی کثرت، خون کو ہلکا سمجھنا، قطع رحمی، اور ایسے لوگوں کا پیدا ہونا جو قرآن کو گانے کا آلہ بنا لیں گے، ایسے شخص کو آگے کریں گے جو نہ دین میں ان میں سب سے زیادہ سمجھدار ہو، نہ سب سے زیادہ علم والا، حالانکہ ان میں اس سے زیادہ سمجھدار اور علم والے لوگ موجود ہوں گے، پھر بھی اسے صرف اس لیے آگے کریں گے کہ وہ انہیں گا کر سنائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15150
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 35، حدیث 59