حدیث نمبر: 15152
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيمٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ عَابِسٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يَتَرَحَّلُونَ، فَقَالَ: مَا لَهُمْ؟ قَالُوا: يَفِرُّونَ مِنَ الطَّاعُونِ فَقَالَ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ: أَتَتَمَنَّى الْمَوْتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَمَنَّوُا الْمَوْتَ عِنْدَ خِصَالٍ سِتٍّ: عِنْدَ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ، وَبَيْعِ الْحُكْمِ، واسْتِخْفَافٍ بِالدَّمِ، وَكَثْرَةِ الشُّرَطِ، وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ، وَنَشْوٍ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لِيُغَنِّيَهُمْ وَلَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ " زَادَ شَرِيكٌ فِي الْإِسْنَادِ عُلَيْمًا الْكِنْدِيِّ
ترجمہ

سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو کوچ کرتے دیکھا تو پوچھا: انہیں کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا: یہ طاعون سے بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف لے لے۔ تو ان کے ایک چچازاد بھائی نے کہا: کیا تم موت کی تمنا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”چھ خصلتوں کے وقت موت کی تمنا کرو: بےوقوفوں کی حکمرانی کے وقت، فیصلے کی خرید و فروخت کے وقت، خون کو ہلکا سمجھنے کے وقت، پہرہ داروں کی کثرت کے وقت، قطع رحمی کے وقت، اور ایسے لوگوں کے پیدا ہونے کے وقت جو قرآن کو گانے کا آلہ بنا لیں گے، کسی ایسے شخص کو آگے کریں گے جو انہیں گا کر سنائے حالانکہ وہ ان میں سب سے زیادہ سمجھدار نہ ہو گا۔“ شریک نے سند میں 'علیم کندی' کا اضافہ کیا ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15152
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 36، حدیث 61