المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عابس الغفاري باب: سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنْ زَاذَانِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَابِسٍ الْغِفَارِيِّ عَلَى ظَهْرِ أَجَارٍ بِالْبَصْرَةِ، فَرَأَى النَّاسُ يَتَحَمَّلُونَ لِيَهْرَبُوا مِنَ الطَّاعُونِ فَقَالَ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ، يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ، يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ، فَقَالَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ: قَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ لِمَ يَتَمَنَّى الْمَوْتَ؟ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ فَيَكُونَ عِنْدَ ذَلِكَ انْقِطَاعُ أَجَلِهِ»
وَقَدْ " سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّفْهُنَّ عَلَى أُمَّتِهِ: بَيْعُ الْحُكْمِ، وَإِمَارَةُ السُّفَهَاءِ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ، واسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ لَا يُقَدِّمُونَهُ إِلَّا لِيُغَنِّيَهُمْ بِهِ غِنَاءً "زاذان کہتے ہیں: میں بصرہ میں سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک چھت پر تھا، انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ طاعون سے بھاگنے کے لیے سامان لاد رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف لے لے، اے طاعون! مجھے اپنی طرف لے لے، اے طاعون! مجھے اپنی طرف لے لے۔ تو ان کے ایک چچازاد بھائی نے کہا: انہیں تو صحبت نبوی حاصل رہی ہے، پھر موت کی تمنا کیوں کر رہے ہیں؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے، ایسا نہ ہو کہ اسی وقت اس کی موت کا وقت آ جائے۔“
اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ اپنی امت کے بارے میں ان چیزوں سے ڈرتے تھے: فیصلے کی خرید و فروخت، بےوقوفوں کی حکمرانی، پہرہ داروں کی کثرت، قطع رحمی، خون کو ہلکا سمجھنا، اور ایسے لوگوں کا پیدا ہونا جو قرآن کو گانے کا آلہ بنا لیں گے، اپنے میں سے کسی ایسے شخص کو آگے کریں گے جو ان میں سب سے زیادہ سمجھدار نہ ہو، اور اسے صرف اس لیے آگے کریں گے کہ وہ انہیں گا کر سنائے۔