حدیث نمبر: 15148
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، وَبَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَابِسٍ الْغِفَارِيِّ، صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ عَلَى سَطْحٍ فَرَأَى النَّاسَ يَتَرَحَّلُونَ فَقَالَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ قَالُوا: يَتَرَحَّلُونَ مِنَ الطَّاعُونِ، قَالَ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي، يَا طَاعُونُ خُذْنِي، يَا طَاعُونُ خُذْنِي، فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَخِيهِ: يُتَمَنَّى الْمَوْتُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمَنَّوُا الْمَوْتَ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ الْعَمَلَ، وَلَا يَرُدُّ الرَّجُلَ فَيُسْتَعْتَبُ؟»
قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُدْرِكَنِي سِتٌّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُنَّ: «الْجَوْرُ بِالْحُكْمِ، وَالتَّهَاوُنُ بِالدِّمَاءِ، وَإِمَارَةُ السُّفَهَاءِ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ، وَتَقْدِيمُ الْقَوْمِ الرَّجُلَ الْقَوْمَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ وَلَا بِخَيْرِهِمْ لِيُغَنِّيَهُمْ بِالْقُرْآنِ»
ترجمہ

سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اے طاعون! مجھے لے لے، اے طاعون! مجھے لے لے، اے طاعون! مجھے لے لے۔ تو ان کے بھتیجے نے ان سے کہا: موت کی تمنا کی جا رہی ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”موت کی تمنا نہ کرو، کیونکہ وہ عمل کو ختم کر دیتی ہے، اور آدمی کو واپس نہیں لاتی کہ وہ توبہ کر لے۔“
انہوں نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے چھ چیزیں نہ آ لیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں کہ آپ ﷺ ان کا ذکر فرماتے تھے: ”فیصلوں میں ظلم، خون کو ہلکا سمجھنا، بےوقوفوں کی حکمرانی، قطع رحمی، پہرہ داروں کی کثرت، اور لوگوں کا کسی ایسے شخص کو آگے کرنا جو نہ سب سے زیادہ سمجھدار ہو نہ سب سے بہتر، صرف اس لیے کہ وہ انہیں قرآن پڑھ کر سنائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15148
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 34، حدیث 57