حدیث نمبر: 15147
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، «وَكَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللهِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسِ سِنِينَ، وَزَعَمَ أَنَّهُ عَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ دَلْوٍ مُعَلَّقٍ فِي دَارهِمْ»
فَقَالَ مَحْمُودٌ: سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ قَبِيلَتِهِ وَمَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ بَصَرِي قَدْ كَلَّ، وَإِنَّ الْأَمْطَارَ حِينَ يَكُونُ يَمْنَعُنِي سَيْلُ الْوَادِي الَّذِي بَيْنَ سَكَنِي وَمَسْجِدِ قَوْمِي، فَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ الصَّلَاةِ، فَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي فَأَتَّخِذُهُ مُصَلًّى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَغَدَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِنَ لَهُ، فَقَالَ: «أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟» فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْ بَيْتِي فَقَامَ فَكَبَّرَ، فَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ
ترجمہ

محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ انہیں یاد ہے، جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو ان کی عمر پانچ برس تھی، اور وہ دعویٰ کرتے تھے کہ انہیں یاد ہے وہ کلی جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے گھر کے کنویں سے لٹکے ہوئے ڈول کے پانی سے ان کے چہرے پر کی تھی۔
محمود کہتے ہیں: میں نے سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنا - جو ان کے قبیلے کے ایک شخص اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے - انہوں نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: میری بینائی کمزور ہو گئی ہے، اور جب بارش ہوتی ہے تو وادی کا سیلاب، جو میرے گھر اور میری قوم کی مسجد کے درمیان ہے، میرے اور نماز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، پس میں چاہتا ہوں کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے جائے نماز بنا لوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ عتبان کہتے ہیں: چنانچہ اگلے دن رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ نے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت دی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر میں کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟“ میں نے اپنے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے، تکبیر کہی، ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی، آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر سلام پھیرا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15147
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 33، حدیث 56