المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عتبان بن مالك باب: سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الْمُعَلِّمُ، ثنا الْوَلِيدُ بِنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «وَعَقَلْتُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنْ دَلْوٍ مُعَلَّقٍ فِي دَارِنَا»
قَالَ مَحْمُودٌ: وَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ وَإِنَّ الْأَمْطَارَ إِذَا اشْتَدَّتْ سَالَتْ وَسَالَ الْوَادِي بَيْنِي وَبَيْنَ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِي، فَلَوْ صَلَّيْتَ فِي مَسْجِدِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» فَغَدَا عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَاسْتَأْذَنَا فَأَذِنْتُ لَهُمَا، فَمَا جَلَسَ حَتَّى قَالَ: «أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ مَنْزِلِكَ؟» فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُمحمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے یاد ہے وہ کلی جو رسول اللہ ﷺ نے ہمارے گھر کے کنویں سے نکالے گئے لٹکے ہوئے ڈول کے پانی سے میرے چہرے پر کی تھی۔
محمود کہتے ہیں: مجھے سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا، فرمایا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میری بینائی خراب ہو گئی ہے، اور جب بارشیں تیز ہوتی ہیں تو وادی بہہ نکلتی ہے اور میرے اور میری قوم کی مسجد میں نماز کے درمیان حائل ہو جاتی ہے، تو کیا آپ میری مسجد میں کسی جگہ نماز پڑھ دیں گے جسے میں جائے نماز بنا لوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ چنانچہ اگلے دن رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لے کر تشریف لائے، دونوں نے اجازت طلب کی تو میں نے دونوں کو اجازت دی، آپ ﷺ بیٹھے بغیر فرمانے لگے: ”تم اپنے گھر میں کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟“ میں نے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے، ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی، آپ ﷺ نے نماز پڑھی، اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کو خزیرہ کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ ﷺ کے لیے بنایا تھا۔